سولار سسٹم (solar system) کے ذریعہ گرم کئے ہوئے پانی سے طہارت کا حکم
سوال :- بعض مقامات پر سولار سسٹم (سورج کی تپش سے )پانی گرما کیا جاتا ہے، طہارت میں
ایسے پانی کے استعمال کا کیا حکم ہے؟
الجواب
وباللہ التوفیق:-
ماء مشمس یعنی سورج کی تپش سے گرم
شدہ پانی سے طہارت حاصل کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ تین شرطوں کے پائے جانے پر
1)بلادِ
حارہ ہو
2)
سونے و چاندی کے علاوہ دیگر دھات سے ٹھوک ٹھوک کر بنائے ہوئے برتن میں ہو۔
3)
اس پانی کی حرارت و شدتِ سخن میں استعمال کیا جائےز؎
جیسا کہ علماہ غمراوی رحمہ اللہ کی اس
عبارت سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔
" وَيكرهُ تَنْزِيها اسْتِعْمَال المَاء المشمس
أَي المسخن بالشمس ........... إِنَّمَا بِشَرْط
1)
أَن يكون ذَلِك بقطر حَار كالحجاز، (2) فِي إِنَاء منطبع غير النَّقْدَيْنِ وَ (3)
أَن يسْتَعْمل فِي حَال حرارته 1ھ"(السراج الوھاج 1/10)
لہٰذا اس صورت میں سولار سسٹم پر
گرم کیا جانے والا پانی اگر لوہے کی ٹنکی میں اور ان شرائط میں سے کوئی شرط پائی
جاتئے تو وہ مکروہ ہے ورنہ نہیں، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے اس کی غمازی اپنے
ان الفاظ میں کی
"وَالْمُشَمَّسُ فِي الْحِيَاضِ وَالْبِرَكِ غَيْرُ مَكْرُوهٍ
بِالِاتِّفَاقِ، وَفِي الْأَوَانِي مَكْرُوهٌ عَلَى الْأَصَحِّ، بِشَرْطِ أَنْ
يَكُونَ فِي الْبِلَادِ الْحَارَّةِ، وَالْأَوَانِي الْمُنْطَبِعَةِ كَالنُّحَاسِ
إِلَّا الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ عَلَى الْأَصَحِّ. وَعَلَى الثَّانِي يُكْرَهُ
مُطْلَقًا.[1]"
(الروضۃ 1/119)
کتبہ: مفتی عمر بن ابو بکر الملاحی الحسینی الشافعی حفظہ اللہ
No comments:
Post a Comment