Monday, 27 February 2017

نائلون کے موزوں پر مسح کا حکم

نائلون کے موزوں پر مسح کا حکم

سوال  : آج کل جوتے میں نائلون کے موزے پہنے جاتے ہیں، طہارت کے وقت ایسے موزوں پر مسح کرنا کافی ہے یا نہیں۔ اسی طرح جوتوں کے اوپر مسح کر سکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:-

                نائلون کے موزوں اور جوتوں پر مسح کرنا اس وقت درست ہوگا جب کہ ان میں فقہاء کرام کی بتلائی ہوئی شرطیں پائی جائیں ورنہ ان پر مسح کرنا جائز نہ ہوگا۔ جیسا کہ صاحب عمدۃ السالک نے اس کی وضاحت فرمائی :
1 - أن يلبسه على وضوء كامل.
2 - وأن يكون طاهراً.
3 - وساتراً لجميع محل الفرض.
4 - ومانعاً لنفوذ الماء.
5 - ويمكن متابعة المشي عليهما لتردُّد مسافر لحاجاته، سواء كان من جلد، أو لِبْدٍ، أو خِرَقٍ مطبَّقة، أو خشب، أو غير ذلك، أو مشقوقاً شد بشَرَج. 1ه(عمدة السالك ص 18)
یعنی
1۔ کامل وضو کی حالت میں پہناہو،
2۔ وہ پاک ہو،
3۔ وہ محل فرض کو چھپانے والے ہو،
4۔ وہ پانی کے نفوذ(داخل) ہونے کو روکنے والے ہو،

5۔  اور لگا تار ان پر چلنا ممکن ہو مسافر کو آمد و رفت کی حاجت کی وجہ سے،  چاہے وہ موزے جلد کے ہو یا مضبوط اون کے ہو یا تہ بہ تہ ایک ساتھ لپیٹا ہوا ہو(جیسے پٹی کی طرح لپیٹا ہو) وغیرہ وغیرہ 

اور ان شرطوں میں سے چوتھی اور پانچویں شرط نائلون کے موزوں میں نہیں  پائی جاتی، اس لئے مسح درست نہیں۔
                بعض حضرات نے ایک اور شرط کا اضافہ فرمایا کہ وہ حلال ہو، جس کو امام ابن صباغ و غزالیؒ نے راجح قرار دیا۔
قِيلَ: وَحَلاَلاً وهو قول ابن القاص. وأشار ابن الصباغ والغزالي إلى ترجيحه؛ لأن المسح رخصه وهي لا تناط بالمعاصي. (النجم الوهاج 1/367)
نیز صاحب نجم الوھاج نے صریح عبارت نقل فرمائی 
وَلاَ يُجْزِئُ مَنْسُوجٌ لاَ يَمْنَعُ مَاءً فِي الأَصَحِّ[1] (النجم الوهاج 1/368)

کتبہ: مفتی عمر بن ابو بکر الملاحی الحسینی الحضرمی الشافعی


[1] نیز دیکھئے:- عجالۃ المحتاج 1/120؛ حاشیۃ البجیرمی علی شرح المنھج الطلاب 1/110؛ العباب ص 135؛ روضۃ 1/124۔

Saturday, 25 February 2017

بے وضو شخص کا قرآنی آیات ٹائپ کرنا

بے وضو شخص کا قرآنی آیات ٹائپ کرنا


سوال:- اگر کوئی شخص کمپیوٹر پر بغیر وضوء قرآنی آیات ٹائپ کرے تو اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:-
                اگر کوئی شخص کمپیوٹر پر قرآنی آیات اس طور پر ٹائپ کر رہا ہے کہ وہ اس کو چھو نہیں رہا ہے تو ایسے شخص کے لئے اس طرح کرنا جائز ہے درانحالیکہ وہ محدث ہو۔ جیسا کہ امام نوویؒ نے اس کی وضاحت فرمائی۔
".. وهل للبالغ كتابة القرآن وهو محدث أوجنب، وكذلك المرأة؟. الجواب:.. وأما البالغ من الرجال أو النساء، فلا يجوز له كتابةُ القرآن إِلا أن يكتبه بحيث لا يمسّ المكتوبَ فيه. ولا يحمله بأن يضعه بين يديه ويرفع يده في حال الكتابة[1] "(فتاویٰ للامام النووی ص 33)

"یہ حکم جس طرح کتابت کے لئے اسی طرح ٹائپ اور کمپوزنگ کے لئے بھی ہے۔1ھ"(جدید فقہی مسائل 1/103)


کتبہ: مفتی عمر بن ابو بکر الملاحی الحسینی الحضرمی الشافعی

[1]  نیز دیکھئے:- التھذیب 1/278؛ مغنی المحتاج 1/150؛ عجالۃ المحتاج 1/80؛ حاشیۃ البجیرمی علی شرح منھج الطلاب 1/68؛ العباب المحیط 89؛ اسنی المطالب 1/119۔

Tuesday, 21 February 2017

نا محرم کو چھونے سے وضوء ٹوٹنے کے دلائل مع عدم نقض والی روایات کے جوابات

نا محرم کو چھونے سے وضوء ٹوٹنے کے دلائل مع عدم نقض والی روایات کے جوابات

سوال : کونسی عورت کو چھونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی کیا دلیل ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:-
                بلا حائل اجنبی مرد و عورت کی چمڑی کا آپس میں چھوجانا ایسی صورت میں دونوں کا وضوء ٹوٹ جائے گا  (اور دونوں کی عمر اتنی ہو کہ عرفاً ایک سلیم الفطرت کو انہیں دیکھ کر غالباً شہوت آسکتی ہے اس کے جذبات اُبھر سکتے ہیں۔)
                جیسا کہ امام نوویؒ نے اس کی وضاحت فرمائی ہے
"قَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ مَذْهَبَنَا أَنَّ الْتِقَاءَ بَشَرَتَيْ الْأَجْنَبِيِّ وَالْأَجْنَبِيَّةِ ينتقض سواء كان بشهوة وبقصد أم لا ولا ينتقص مَعَ وُجُودِ حَائِلٍ وَإِنْ كَانَ رَقِيقًا[1]" (المجموع 1/37)
دلائل:-
ہمارے مسلک پر بہت ساری احادیث دلالت کرتی ہیں
1) اللہ تعالیٰ کا فرمان "أو لمستم النساء"(سورہ مائدہ آیت 6) لمس کا اطلاق ہاتھ سے چھونے پر ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان " فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ"(سورہ انعام آیۃ 7) ؛ آپ ﷺ کا حضرت ماعز رضی اللہ عنہ  سے ارشاد فرمایا "لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ" رواہ البخاری فی الحدود 6824 بلفظ  "«لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ غَمَزْتَ، أَوْ نَظَرْتَ»"؛ نهى عن بيع الملامسة أخرجه البخاري 2146 واليد زناها اللمس في حديث ابي هريرة عند المسلم 2657 بلفظ واليد زناها البطش ؛  نیز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث  قَلَّ يَوْمٌ إلَّا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَيْنَا فَيُقَبِّلُ وَيَلْمِسُ" أخرجه البيهقي باب الوضوء من الملامسة 1/123 زاد ما دون الوقاع
قال اهل اللغة : اللمس يكون باليد وبغيرها وقد يكون بالجماع المعجم الوسيط ص 838
امامنا الشافعیؒ نے ایک شعر کہا:
وَأَلْمَسْتُ كَفِّي كَفَّهُ طَلَبَ الْغِنَى                وَلَمْ أَدْرِ أَنَّ الْجُودَ مِنْ كَفِّهِ يُعْدِي
                اسی طرح مالك عن ابن شهاب عن سالم بن عبد الله بن عمر عن  أبيه قال قُبْلَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَجَسُّهَا بِيَدِهِ مِنْ الْمُلَامَسَةِ فَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَسَّهَا بِيَدِهِ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ أخرجه مالك في الموطأ باب : الوضوء من قبلة الرجل إمرأته، وأخرجه الشافعي في الأم باب : الوضوء من الملامسة والغائط۔
                مزید براں امام شافعیؒ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے استدلال فرمایا:
وَإِذَا أَفْضَى الرَّجُلُ بِيَدِهِ إلَى امْرَأَتِهِ أَوْ بِبَعْضِ جَسَدِهِ إلَى بَعْضِ جَسَدِهَا لَا حَائِلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا بِشَهْوَةٍ أَوْ بِغَيْرِ شَهْوَةٍ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ وَوَجَبَ عَلَيْهَا أخرجه البيهقي 1/124، وعبد الرزاق 497.

عدم نقض والی روایات کے جوابات

بہر حال وہ احادیث جس میں عدم نقض کا حکم ثابت ہوتا ہے ان کی تفصیل مع الجوابات یہ ہے۔
1) عن حبيب ابن أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أخرجه الترمذي في الطهارة 1/86
الجواب: دو وجہ سے
1) احسن و اشهر جواب یہ ہے:
باتفاقِ حفاظ یہ حدیث ضعیف ہے۔ ان میں سفیان ثوری ، یحیی بن سعید القطان، احمد بن حنبل، ابو داود، ابو بکر نیسابوری، ابو الحسن دار قطنی، ابو بکر بیہقی اور متأخرین و متقدمین ہیں بلکہ امام احمد بن حنبل و ابو بکر نیسابوری اور ان کے علاوہ حضرات رقمطراز ہیں:
غلط حبيب من قبلة الصائم الى القبلة في الوضوء
امام ابو داود رحمہ اللہ نے فرمایا: " رُوِيَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ مَا حَدَّثَنَا حَبِيبٌ إلَّا عَنْ عُرْوَةَ الْمُزَنِيِّ يَعْنِي لَا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعُرْوَةُ الْمُزَنِيّ مَجْهُولٌ وَإِنَّمَا صَحَّ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صائم" بخاری 1928، مسلم 1107
2) والجواب الثانی : اگر اس حدیث کو بالفرض صحیح بھی مان لے تو یہ کہا جائے گا کہ یہ بوسہ لینا حائل کے ساتھ ہو جیسا کہ دیگر ادلہ کے درمیان جمع کرنے سے پتہ چلتا ہے۔
2) عَنْ أَبِي رَوْقٍ عَنْ إبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ بَعْدَ الْوُضُوءِ ثُمَّ لَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ أخرجہ الترمذی باب: ماجاء فی ترک الوضوء من القبلۃ
الجواب: ائمۃ محدثین نےا س حدیث کو ضعیف قرار دیا دو (2) اعتبار سے
                1)یحیٰ بن معینؒ نے ابوروق کو ضعیف کہا
                2) ابراھیم تیمیؒ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا
قال الترمذي باب ما جاء في ترك الوضوء من القبلة
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»، وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا، وَلَا نَعْرِفُ لِإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ سَمَاعًا مِنْ عَائِشَةَ، وَلَيْسَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا البَابِ شَيْءٌ
امام بیہقیؒ نے فرمایا:
وَقَدْ رَوَيْنَا سَائِرَ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ فِي الْخِلَافِيَّاتِ وَبَيَّنَّا ضَعْفَهَا فَالْحَدِيثُ الصَّحِيحُ عَنْ عَائِشَةَ فِي قُبْلَةِ الصَّائِمِ فَحَمَلَهُ الضُّعَفَاءُ مِنْ الرُّوَاةِ عَلَى تَرْكِ الْوُضُوءِ (المجموع 2/32)
3) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی صحیح حدیث سے استدلال کرتے ہیں
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَهُوَ حامل أمامة بنت زينب رضي الله عنهما فَكَانَ إذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ رَفَعَهَا رواه البخاري 516، 5996 ومسلم543 فی المساجد
الجواب:- اس حدیث کے مختلف جوابات دئے گئے
1)اظهر: رفع و وضع کی وجہ سے التقاء بشرتین لازم نہیں آتا۔
2) وہ چھوٹی تھیں اور چھوٹی بچی کو چھونے سے خود شوافع کے یہاں وضوء نہیں ٹوٹتا
3) وہ تو آپ کی نواسی محترمہ تھیں، جس بناء پر وہ محرم ٹہریں اور محرم کو چھونے سے عندنا نقضِ وضو نہیں ہوتا۔
4) صحیحین کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی دوسری حدیث
أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي وهي معترضة بينه وبين القبلة فإذا أراد أن يسجد غمز رجلها فقبضتها أخرجه البخاري في الصلاة باب الصلاة في الفراش 382،383،384،508،511،512،513،514،519،997،1209
ومسلم في باب الاعتراض بين يدي المصلي 512
الجواب: اس حدیث کو حائل پر محمول کریں گے

5) نسائی کے صحیح الاسناد حدیث کے ذریعہ  " فإذا أراد أن يوثر مسني برجله " أخرجه النسائي 1/101،102
الجواب: آپ ﷺ نے حائل کے ساتھ چھویا اور یہ بات بستر پر سونے والے شخص کے حق میں ظاہر ہے اور یہ دونوں جوابات ملموس کے طھر کو ماننے کی صورت میں ہے ورنہ اس کی کوئی ضرورت نہیں

6) قیاس کیا محارم اور بالوں پر اور کہا  کہ لمس ناقض وضوء ہے تو لمس الرجل الرجل بھی ناقض وضوء ہونا چاہئے جیسا کہ جماع الرجل الرجل جماع المرأۃ کی طرح ہے۔
الجواب: بالوں کو چھونے پر تلذذ حاصل نہیں اور محرم و رجل مظنۂ شہوت نہیں اس باب میں امام الحرمین نے قیاس کو باطل کیا۔ (انظر ھذا التفصیل : المجموع 2/38 تا 43) 
کتبہ: مفتی عمر بن ابو بکر الملاحی الحسینی الحضرمی الشافعی




[1]  نیز دیکھئے :- تحفۃ الطلاب 1/18؛ نھایۃ المحتاج 1/116؛ تحفۃ المحتاج 1/53؛ العزیز 1/161؛ عجالۃ المحتاج 1/78۔

پوتاشیم ملے ہوئے پانی سے طہارت حاصل کرنے کا حکم

پوتاشیم ملے ہوئے پانی سے طہارت حاصل کرنے کا حکم

سوال :- بہت سے مقامات پر پانی میں پوٹاشیم ملایا جاتا ہے جس سے پانی کا مزہ بدل جاتا ہے تو ایسے پانی کا طہارت کے لئے استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:-
                پوٹاشیم کے ذریعہ ملاوٹ شدہ پانی سے طہارت حاصل کرنا درست ہے گرچہ اس کے مزہ میں تغیر بھی آتا ہے؛ اس لئے کہ اس چیز کی ملاوٹ کی بناء پر وہ پانی ماء مطلق کی قید سے خارج نہیں ہوتا، جیسا کہ صاحبِ فتح العزیز نے فرمایا : "ويجوز أن يقال أراد العارى عن القيود والاضافات أي كل ما يسمى ماء من غير قيد فهو طهور وهذا لا ينافيه وقوع اسم الماء عليه "(فتح العزیز 1/10)
وقال امامنا الشافعیؒ: وَإِذَا وَقَعَ فِي الْمَاءِ شَيْءٌ حَلَالٌ فَغَيَّرَ لَهُ رِيحًا أَوْ طَعْمًا، وَلَمْ يَكُنْ الْمَاءُ مُسْتَهْلَكًا فِيهِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَتَوَضَّأَ بِهِ وَذَلِكَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ الْبَانُ أَوْ الْقَطْرَانُ فَيَظْهَرُ رِيحُهُ أَوْ مَا أَشْبَهَهُ.[1] (کتاب الأم  1/33)
کتبہ: مفتی عمر بن ابو بکر الملاحیالحسینی  الشافعی حفظہ اللہ




[1]  نیز دیکھئے:- المجموع  1/155 ؛ مغنی المحتاج 1/118 ؛ نھایۃ المحتاج  1/63 ؛ اسنی المطالب 1/16 ؛  الروضۃ  1/119

سولار سسٹم (solar system) کے ذریعہ گرم کئے ہوئے پانی سے طہارت کا حکم

سولار سسٹم (solar system) کے ذریعہ گرم کئے ہوئے پانی سے طہارت کا حکم


سوال :- بعض مقامات پر سولار سسٹم (سورج کی تپش سے )پانی گرما کیا جاتا ہے، طہارت میں ایسے پانی کے استعمال کا کیا حکم ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:-
                ماء مشمس یعنی سورج کی تپش سے گرم شدہ پانی سے طہارت حاصل کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ تین شرطوں کے پائے جانے پر
1)بلادِ حارہ ہو
2) سونے و چاندی کے علاوہ دیگر دھات سے ٹھوک ٹھوک کر بنائے ہوئے برتن میں ہو۔
3) اس پانی کی حرارت و شدتِ سخن میں استعمال کیا جائےز؎
جیسا کہ علماہ غمراوی رحمہ اللہ کی اس عبارت سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔
" وَيكرهُ تَنْزِيها اسْتِعْمَال المَاء المشمس أَي المسخن بالشمس ........... إِنَّمَا بِشَرْط
1) أَن يكون ذَلِك بقطر حَار كالحجاز، (2) فِي إِنَاء منطبع غير النَّقْدَيْنِ وَ (3) أَن يسْتَعْمل فِي حَال حرارته 1ھ"(السراج الوھاج  1/10)
                لہٰذا اس صورت میں سولار سسٹم پر گرم کیا جانے والا پانی اگر لوہے کی ٹنکی میں اور ان شرائط میں سے کوئی شرط پائی جاتئے تو وہ مکروہ ہے ورنہ نہیں، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے اس کی غمازی اپنے ان الفاظ میں کی
                "وَالْمُشَمَّسُ فِي الْحِيَاضِ وَالْبِرَكِ غَيْرُ مَكْرُوهٍ بِالِاتِّفَاقِ، وَفِي الْأَوَانِي مَكْرُوهٌ عَلَى الْأَصَحِّ، بِشَرْطِ أَنْ يَكُونَ فِي الْبِلَادِ الْحَارَّةِ، وَالْأَوَانِي الْمُنْطَبِعَةِ كَالنُّحَاسِ إِلَّا الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ عَلَى الْأَصَحِّ. وَعَلَى الثَّانِي يُكْرَهُ مُطْلَقًا.[1]"
(الروضۃ  1/119)
کتبہ: مفتی عمر بن ابو بکر الملاحی الحسینی  الشافعی حفظہ اللہ




[1]  نیز دیکھئے:- البیان 1/13؛ المجموع 1/135؛ مغنی المحتاج  1/119؛ الاقناع 1/34 ۔

Monday, 20 February 2017

ماء زمزم سے طہارت حاصل کرنا

ماء زمزم سے طہارت حاصل کرنا

سوال : ماء زمزم ایک متبرک پانی ہے، کیا اس سے طہارت حاصل کی جاسکتی ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:-
                جی ہاں، ماءِ زمزم کے متبرک ہونے کے باوجود اس سے وضوء و غسل کرنا جائز ہے بلا کسی کراہت کے، جیسا کہ امام النووی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب المجموع 1/137 میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
"وَأَمَّا زَمْزَمُ فَمَذْهَبُ الْجُمْهُورِ كَمَذْهَبِنَا أَنَّهُ لَا يُكْرَهُ الْوُضُوءُ وَالْغُسْلُ بِهِ"
دلیلنا:-    وہ تمام نصوصِ صحیحہ صریحہ مطلقہ جو پانی کے بارے میں بلا کسی فرق کے وارد ہوئی ہیں۔
                نیز مسلمان اس سے بلا کسی انکار کے وضو کرتے چلے آرہے ہیں۔ انتھی کلام النووی۔
                البتہ جواز کے باوجود ماء ِ زمزم سے ازالۂ نجاست سے اجتناب مناسب و بہتر ہے۔ خصوصاً استنجاء میں اس لئے کہ یہ بواسیر کا باعث ہے جیسا کہ اسی کے مانند ابن ملقن نے شرح بخاری میں قول ذکر کیا ۔[1]  (الاقناع 1/22)
مفتی عمر بن ابو بکر  الملاحی الحسینی الشافعی حفظہ اللہ




[1]  نیز دیکھئے:- المجموع 1/137 ؛ الاقناع 1/22؛ البیان 1/15؛ مغنی المحتاج  1/48؛ تحفۃ المحتاج  1/35

Sunday, 12 February 2017

شیخ علامہ عبد الرحمٰن بن یحیی المعلمی الیمانی الشافعیؒ

2۔ شیخ علامہ عبد الرحمٰن بن یحیی المعلمی الیمانی الشافعیؒ( المتوفی 1386 ھ م 1966ء):
از مفتی عمر بن ابو بکر بن عبد الرحمن الملاحی الحضرمی الشافعی حفظہ اللہ

            شیخ علامہ عبد الرحمٰن المعلمیؒ نادرِ زمان، نابغۂ روزگار، استاذ الاساتذہ، ناقد، باحث، محقق و تحریر کی شگفتگی اور فنی لیاقت کے اعتبار سے اپنے موضوع پر مستند عالمِ دین سمجھے جاتے ہیں۔
شیخ علامہ عبد الرحمٰن المعلمیؒ کا تعلق ملک یمن سے ہے، 1313 ھ کو آپ نے اس جہانِ رنگ و بو میں آنکھیں کھولیں اور وہیں علوم و فنون حاصل کئے پھر آپ نے حیدرآباد کی طرف ہجرت کی، اور وفات تک یہیں رہے، نکاح بھی یہیں کیا۔
علمی مہارت: آپ کو علمِ انساب ورجال اور دیگر علوم و فنون میں یدِ طولیٰ حاصل تھا۔ آپ شافعی تھے اور فقہ شافعی سے خصوصی دلچسپی و تعلق تھا، آپ بڑے عالی مقام محقق بھی تھے چنانچہ آپ کے علمی تحقیقی سرمایہ منظر عام پر آچکے ہیں جن میں بعض کا تذکرہ  علامہ حبیب عبد اللہ المدیحج کے ساتھ آچکا، اس لئے ان کے علاوہ کتب پر تبصرہ کرنا چاہوں گا جس میں علامہ حبیب عبد اللہ المدیحجؒ بھی شریکِ تحقیق و تعلیق رہ چکے ہیں۔
کتاب اعراب ثلاثین سورۃ من القرآن الکریم، لابن خالویۃ، علامہ موصوف عبد الرحمٰن المعلمیؒ نے اس کتاب کی کمی کو پورا کیا، کہیں نقص یا تحریف ہوچکی تھی اس کو دور کیا۔
کتاب الاعتبار، لابن بکر محمد بن موسی بن حازم الھمدانی (م 574ھ) علامہ موصوفؒ نے اپنے رفقاء کے ساتھ 274 صفحات پر اس کتاب کی تصحیح فرمائی۔
(فقہ شافعی تاریخ و تعارف 327-328)

Saturday, 11 February 2017

الشیخ حبیب عبد اللہ بن احمد المدیحج الحضرمیؒ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الشیخ حبیب عبد اللہ بن احمد المدیحج الحضرمیؒ

از: مفتی عمر بن ابو بکر بن عبد الرحمن الملاحی الحضرمی الشافعی حفظہ اللہ
الشیخ حبیب عبد اللہ بن احمد المدیحج الحضرمیؒ (1311ھ – 1408 ھ):
            الشیخ حبیب عبد اللہ المدیحج ان محقق علماء کرام کے روحِ رواں ہیں جو برصغیر ہند و پاک کے علاوہ عرب ممالک کے علمی حلقوں میں بھی ممتا مقام رکھتے ہیں۔ علم فقہ و حدیث اور اصولِ فقہ و حدیث آپ کا خاص موضوع رہا ہے، جس سے متعلق متعدد وقیع کتابیں اب تک منظرِ عام پر آکر خراجِ تحسین وصول کرچکی ہیں۔
تعلیمی سفر: آپ رحمۃا للہ علیہ نے حضرموت کے مقام "زیدۃ العلیب" سے جو مسقط کے باڈر پر واقع ہے حیدرآباد کا اپنی عنفوانِ شباب کے دور میں سفر کیا اور یہاں پہنچ کر شہر حیدرآباد کی عالمی شہرت یافتہ درسگاہ جامعہ نظامیہ میں عباقیر علماء کرام و اساتذہ فن سے فیض یاد ہونے اور علم و فن کے گل بوٹوں سے دامن مراد بھرنے کا موقع ملا، چنانچہ آپ نے اس دانش گاہ سے پورا پورا استفادہ کیا اور وقت کے تقاضوں کے مطابق علم و فن کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر عالمیت و فضیلت اور خصوصاً  تخصص فی الفقہ الشافعی کی سند حاصل کی۔ اس طرح آپنے اپنے علمی ذوق کی تسکین کے لئے ملک و بیرون ملک کی دانش گاہوں سے اکتسابِ فیض کیا اور ہر جگہ ممتاز رہے۔
            علمی و تحقیق خدمات: تکمیلِ تعلیم کے بعد یہیں حیدرآباد میں مقیم ہوکر آپ نے اپنی تبحر علمی سے بہت سارے ان مخطوطوں پر تحقیق، تعلیق، ضبط اور تصحیح کے کارنامے اس وقت بطورِ خاص انجام دئے جب آپ دائرۃ المعارف میں بحیثیت مصحح مقرر کئے گئے۔
            تحقیق خدمات: آپ کی تصحیح و تعلیق شدہ کتب کی فہرست درجہ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
            1۔ شرح تراجم ابوابِ صحیح البخاری، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ۔
            تیسری طباعت کی نشر و اشاعت 1368 ھ 1949 ء میں ہوئی جس پر علامہ حبیب عبد اللہ المدیحج الحضرمی اور محمد طہٰ ندوی نے تصحیح کی ۔ آپ کی یہ خدمت ہی آپ کے متبحر عالمِ دین ہونے پر دلیل ہے، کیوں کہ امام بخاریؒ کے ابواب کی تصحیح ہر کس و ناکس کی بات نہیں۔
            2۔الآمالی، للامام محمد بن حسن شیبانی صاحب امام ابو حنیفہؒ اس کی تصحیح آپؒ کے ساتھ سید ہاشم ندوی اور شیخ عبد الرحمن بن یحیی الیمانی الشافعیؒ (جن کا ذکر آگے آرہا ہے) نے مل کر کی۔
3۔ الأربعین فی اصول الدین، اس کی تصحیح کے امور بھی آپ نے دیگر علماء کی وساطت سے طے کئے۔
انباء الغمر بابناء العمر، لابن حجر العسقلانی الشافعی (803ھ م 1449ء) یہ کتاب پانچ ضخیم مجلدات پر محیط ہے جس کی تصحیح آپ موصوفؒ نے اپنے دائرۃ المعارف کے رفقاء کے ساتھ مل کر کی۔
جوامع اصلاح المنطق ، لابی یوسف یعقوب بن السکت، اس کتاب کی تصحیح آپؒ نے علامہ عبد الرحمٰن بن یحیی المعلمیؒ کے ساتھ مل کر انجام دی اور یہ تحقیق خود آپ دونوں بزرگان کے علم منطق میں ید طولی اور کثرتِ اطلاع رکھنے پر دلالت کرتی ہے۔
6۔  الاشباہ والنظائر للامام جلال الدین سیوطی الشافعی، یہ عظیم الشان کتاب علم قواعد فقہ میں چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔
المعتبر فی الحکمة الھبة اللہ ملکا، لأرسطو یہ جلیل القدر و عالی مقام کتاب فلسفہ میں ہے، جس کے مختلف مخطوطات کا تقابلی مطالعہ بھی ایک قابلِ قدر دشوار کن مرحلہ تھا جس کی بناء پر چند ایک علماء نے مل کر اس کی تصحیح کی، اور مراجعت علامہ مناظر احسن گیلانیؒ سے جو اس وقت جامعہ عثمانیہ میں علوم شرعیہ کے رئیس تھے اور یہ کتاب منطق، طبیعیات اور الالٰھیات پر 1112(م)، 393 (ط)، 463(ء)، 256 صفحات پر مشتمل ہے۔
رسالۃ فی الابعاد والاجرام للامام ابی الحسن کوشیارؒ، اس رسالہ میں زمینی کشادگی، چاند سے اس کی دوری وغیرہ جیسے باریک و دقیق امور پر بحث کی گئی۔
تنقیح المناظر ( فی علم المناظر) یہ کتاب علم ضوء و مناظر یعنی وہ آلات جن سے کسی بھی چیز کے چھوٹے بڑے ہونے کو جانا جاتا ہے سے متعلق ہے، اس کتاب کا شمار نوادرِ زمان میں ہوتا ہے، علامہ موصوفؒ نےا س کتاب میں بوض اختلافی مقامات پر اشکال و رسوم کی زیادتی کی۔
10۔ کتاب میزان الحکمۃ لسید عبد الرحمٰن الخازمی (م 501ھ) یہ کتاب اصولِ طبیعیات جیسے "جاذبیتِ ارض اور اس کے ثقل و وزن کا مرکز" جیسے امور دقیقہ پر مشتمل ہے۔
ان مذکورہ بالا چند تصحیح، تحقیق و تعلیق شدہ کتب کے تذکرہ پر اکتفاء کیا گیا جس کی نشر و اشاعت اور طباعت نے علامہ موصوفؒ کی جانسب سے تصحیح، تحقیق اور تعلیق کے باب میں ایک نمایاں رول ادا کیا (جزاہ اللہ احسن الجزاء) نیز آپ کو انہی علمی و تحقیقی کارناموں کی بدولت "شھادۃ الشرف فی اللغۃ العربیۃ" (Certificate of Honor in Arabic) کے جائزہ و  انعام کی شکل میں 1946 ء میں نوازہ گیا۔

وفات: 4/ نومبر /1986 ء میں اس دنیاء  فانی سے دارِ باقی کی جانب رحلت فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
(فقہ شافعی، تاریخ و تعارف 325-327)

عرض مؤلف مختصر سیرۃ الماحی ﷺ بقلم الملاحی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 مختصر سیرۃ الماحی ﷺ بقلم الملاحی



زبان میری قاصر قلم میرا عاجز
ثناءِ    محمد    بتاؤں    میں   کیسے
ہر قوم کی بقاء اس کے ماضی سے جوڑی ہوئی ہے، جب تک کہ کوئی بھی قوم اپنے اسلاف و مقتداؤں کی حالاتِ زندگی سے واقف کار نہیں ہوگی، اس کی ترقی و عروج محال و ناممکن ہے۔ اسی بناء پر مسلمانوں کے لئے اگر کوئی قابلِ اتباع و اطاعت شخصیت ہے وہ صرف اور صرف محمد ماحئ ضلالت و ظلمت ﷺ کی ذاتِ بابرکت ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت کو جاننا ایمان والوں کے حق میں قوت و ازدیادِ ایمانی اور غیر ایمان والوں کے لئے داعئ قبولِ حق کا ضامن ہے۔
اِسی مقصدِ اعلیٰ کے تحت سیرتِ پاک ﷺ پر بڑی و چھوٹی کئی کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں، اسی کی ایک کڑی اس ناچیز کی چھوٹی سی سعی ہے جو انہیں حضرات کے علوم کا ترجمان اور خادم ہے۔
گرچہ  یہ   ہدیہ   مرا    ناقابلِ     منظور   ہے
پر جو ہو مقبول کیا رحمت سے تیری دور ہے
            اس مختصر سیرتِ پاک ﷺ کے لکھنے میں چند اہم اُمور کا لحاظ کیا گیا۔
1)الماحی ﷺ اور الملاحی میں قریبی مشابہت کی وجہ سے کتاب کا نام  "مختصر سیرۃ الماحی ﷺ بقلم الملاحی" رکھا گیا۔ جو من تشبہ بقوم فھو منھم کے قبیل سے ہے۔
2)عوام الناس، مدرسۂ اسلامیہ کے مبتدی طلباء اور اسکولس و کالجس نیز سمّر کیامپس کے طلباء  کو نظر میں رکھتے ہوئے مواد تیار کیا گیا۔ آئندہ شمارہ میں سوالات بھی درج کئے جائیں گے۔ (ان شاء اللہ)
3) ابتداء میں مأخذ کا حوالہ دیا گیا بعد میں طوالت و تکرار سے بچنے کے لئے چھور دیا گیا۔ البتہ مصادر و مراجع کے نام سے اخیر کتاب میں اُن کے اسماء  درج کئے گئے ہیں۔
4) ائے اللہ! اس کتاب کی اشاعت میں جن حضرات نے بھی حصہ لیا ہو ان سب کو قبول فرما اور ان کی جائز مرادوں کو پورا فرما۔
(مختصر سیرۃ الماحی ﷺ بقلم الملاحی، عرض مؤلف از مفتی ابو عبد اللہ عمر بن ابو بکر الملاحی الشافعی)