نائلون کے موزوں پر مسح کا حکم
سوال : آج کل جوتے میں نائلون کے موزے پہنے جاتے
ہیں، طہارت کے وقت ایسے موزوں پر مسح کرنا کافی ہے یا نہیں۔ اسی طرح جوتوں کے اوپر
مسح کر سکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:-
نائلون کے موزوں اور جوتوں پر مسح کرنا اس وقت درست
ہوگا جب کہ ان میں فقہاء کرام کی بتلائی ہوئی شرطیں پائی جائیں ورنہ ان پر مسح
کرنا جائز نہ ہوگا۔ جیسا کہ صاحب عمدۃ السالک نے اس کی وضاحت فرمائی :
1 - أن يلبسه على وضوء كامل.
2 - وأن يكون طاهراً.
3 - وساتراً لجميع محل الفرض.
4 - ومانعاً لنفوذ الماء.
5 - ويمكن متابعة المشي
عليهما لتردُّد مسافر لحاجاته، سواء كان من جلد، أو لِبْدٍ، أو خِرَقٍ مطبَّقة، أو
خشب، أو غير ذلك، أو مشقوقاً شد بشَرَج. 1ه(عمدة السالك ص 18)
یعنی
1۔ کامل وضو کی حالت میں پہناہو،
یعنی
1۔ کامل وضو کی حالت میں پہناہو،
2۔ وہ پاک ہو،
3۔ وہ محل فرض کو چھپانے والے ہو،
4۔ وہ پانی کے نفوذ(داخل) ہونے کو روکنے والے ہو،
5۔ اور لگا تار ان پر چلنا ممکن ہو مسافر کو آمد و رفت کی حاجت کی وجہ سے، چاہے وہ موزے جلد کے ہو یا مضبوط اون کے ہو یا تہ بہ تہ ایک ساتھ لپیٹا ہوا ہو(جیسے پٹی کی طرح لپیٹا ہو) وغیرہ وغیرہ
اور ان شرطوں میں سے چوتھی اور پانچویں شرط نائلون کے موزوں میں نہیں پائی جاتی، اس لئے مسح درست نہیں۔
3۔ وہ محل فرض کو چھپانے والے ہو،
4۔ وہ پانی کے نفوذ(داخل) ہونے کو روکنے والے ہو،
5۔ اور لگا تار ان پر چلنا ممکن ہو مسافر کو آمد و رفت کی حاجت کی وجہ سے، چاہے وہ موزے جلد کے ہو یا مضبوط اون کے ہو یا تہ بہ تہ ایک ساتھ لپیٹا ہوا ہو(جیسے پٹی کی طرح لپیٹا ہو) وغیرہ وغیرہ
اور ان شرطوں میں سے چوتھی اور پانچویں شرط نائلون کے موزوں میں نہیں پائی جاتی، اس لئے مسح درست نہیں۔
بعض
حضرات نے ایک اور شرط کا اضافہ فرمایا کہ وہ حلال ہو، جس کو امام ابن صباغ و
غزالیؒ نے راجح قرار دیا۔
قِيلَ:
وَحَلاَلاً وهو قول ابن القاص. وأشار ابن الصباغ والغزالي إلى ترجيحه؛ لأن المسح
رخصه وهي لا تناط بالمعاصي. (النجم الوهاج 1/367)
نیز صاحب نجم الوھاج نے صریح
عبارت نقل فرمائی
کتبہ: مفتی عمر بن ابو بکر الملاحی الحسینی الحضرمی الشافعی
[1] نیز دیکھئے:- عجالۃ المحتاج 1/120؛ حاشیۃ البجیرمی علی شرح
المنھج الطلاب 1/110؛ العباب ص 135؛ روضۃ 1/124۔
No comments:
Post a Comment