پوتاشیم ملے ہوئے پانی سے طہارت حاصل کرنے کا حکم
سوال :- بہت سے مقامات پر پانی میں پوٹاشیم ملایا جاتا
ہے جس سے پانی کا مزہ بدل جاتا ہے تو ایسے پانی کا طہارت کے لئے استعمال کرنے کا
کیا حکم ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:-
پوٹاشیم
کے ذریعہ ملاوٹ شدہ پانی سے طہارت حاصل کرنا درست ہے گرچہ اس کے مزہ میں تغیر بھی
آتا ہے؛ اس لئے کہ اس چیز کی ملاوٹ کی بناء پر وہ پانی ماء مطلق کی قید سے خارج
نہیں ہوتا، جیسا کہ صاحبِ فتح العزیز نے فرمایا : "ويجوز
أن يقال أراد العارى عن القيود والاضافات أي كل ما يسمى ماء من غير قيد فهو طهور
وهذا لا ينافيه وقوع اسم الماء عليه "(فتح العزیز 1/10)
وقال امامنا الشافعیؒ: وَإِذَا
وَقَعَ فِي الْمَاءِ شَيْءٌ حَلَالٌ فَغَيَّرَ لَهُ رِيحًا أَوْ طَعْمًا، وَلَمْ
يَكُنْ الْمَاءُ مُسْتَهْلَكًا فِيهِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَتَوَضَّأَ بِهِ وَذَلِكَ
أَنْ يَقَعَ فِيهِ الْبَانُ أَوْ الْقَطْرَانُ فَيَظْهَرُ رِيحُهُ أَوْ مَا
أَشْبَهَهُ.[1] (کتاب
الأم 1/33)
کتبہ: مفتی عمر بن ابو بکر الملاحیالحسینی الشافعی حفظہ اللہ
[1] نیز دیکھئے:- المجموع 1/155 ؛ مغنی المحتاج 1/118 ؛ نھایۃ
المحتاج 1/63 ؛ اسنی المطالب 1/16 ؛ الروضۃ
1/119
No comments:
Post a Comment