Monday, 20 February 2017

ماء زمزم سے طہارت حاصل کرنا

ماء زمزم سے طہارت حاصل کرنا

سوال : ماء زمزم ایک متبرک پانی ہے، کیا اس سے طہارت حاصل کی جاسکتی ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:-
                جی ہاں، ماءِ زمزم کے متبرک ہونے کے باوجود اس سے وضوء و غسل کرنا جائز ہے بلا کسی کراہت کے، جیسا کہ امام النووی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب المجموع 1/137 میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
"وَأَمَّا زَمْزَمُ فَمَذْهَبُ الْجُمْهُورِ كَمَذْهَبِنَا أَنَّهُ لَا يُكْرَهُ الْوُضُوءُ وَالْغُسْلُ بِهِ"
دلیلنا:-    وہ تمام نصوصِ صحیحہ صریحہ مطلقہ جو پانی کے بارے میں بلا کسی فرق کے وارد ہوئی ہیں۔
                نیز مسلمان اس سے بلا کسی انکار کے وضو کرتے چلے آرہے ہیں۔ انتھی کلام النووی۔
                البتہ جواز کے باوجود ماء ِ زمزم سے ازالۂ نجاست سے اجتناب مناسب و بہتر ہے۔ خصوصاً استنجاء میں اس لئے کہ یہ بواسیر کا باعث ہے جیسا کہ اسی کے مانند ابن ملقن نے شرح بخاری میں قول ذکر کیا ۔[1]  (الاقناع 1/22)
مفتی عمر بن ابو بکر  الملاحی الحسینی الشافعی حفظہ اللہ




[1]  نیز دیکھئے:- المجموع 1/137 ؛ الاقناع 1/22؛ البیان 1/15؛ مغنی المحتاج  1/48؛ تحفۃ المحتاج  1/35

No comments:

Post a Comment